CHAPTER 04

بعثتِ نبوی ﷺ اور وفات تک کے اہم واقعات

ذِكْرُ مَبْعَثِهِ ﷺ وَشَيْءٌ مِنْ أَخْبَارِهِ إِلَى أَنْ تُوُفِّيَ
بعثتِ نبوی ﷺ کا ذکر اور وفات تک کے بعض حالات

جب نبی کریم ﷺ کی عمر چالیس سال ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کے پاس غارِ حرا میں حضرت جبرئیل علیہ السلام پیغامِ رسالت لے کر آئے اور آپ ﷺ سے فرمایا: "اپنے رب کے نام سے پڑھو"، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک: "اس نے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔"

یہ آپ ﷺ پر نازل ہونے والی پہلی وحی تھی۔ یہ پیر کے روز، ربیع الاول کی آٹھ تاریخ کو نازل ہوئی، اگرچہ اس کے علاوہ بھی ایک قول بیان کیا گیا ہے۔ پھر لوگوں میں سے جس نے ایمان لانا تھا، وہ ایمان لے آیا اور جس نے کفر کرنا تھا، وہ کافر ہوگیا۔

آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں کا ذکر اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات

سب سے پہلے عورتوں میں خدیجہ بنت خویلد، بچوں میں علی بن ابی طالب، مردوں میں ابوبکر صدیق، اور موالی 1 میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم آپ ﷺ پر ایمان لائے۔

اہلِ مکہ نے آپ ﷺ اور آپ کے اہلِ بیت کو شعب 2 میں تین سال یا اس سے کچھ کم عرصے تک محصور رکھا۔ پھر آپ ﷺ اور آپ کے اہلِ بیت وہاں سے باہر آئے، اس وقت آپ ﷺ کی عمر انچاس سال تھی۔

آپ ﷺ کی عمر کے پچاسویں سال آپ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہوا، اور ان کے تین دن بعد آپ ﷺ کی زوجۂ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی وفات پا گئیں۔

جب آپ ﷺ کی عمر اکیاون سال اور نو ماہ ہوئی تو آپ ﷺ کو زمزم اور مقامِ ابراہیم کے درمیان سے بیت المقدس تک شب کے وقت لے جایا گیا، پھر براق کے ذریعے آپ ﷺ کو آسمان کی طرف لے جایا گیا، اور پانچ نمازیں فرض کی گئیں۔

جب آپ ﷺ کی عمر ترپن سال ہوئی تو آپ ﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ یہ وہ رات تھی جس میں اہلِ مکہ نے آپ ﷺ کو قتل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان سے محفوظ رکھا۔ آپ ﷺ کے رفیق ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ دونوں حضرات تین راتیں غار میں چھپے رہے۔

پھر آپ ﷺ پیر کے روز مدینہ منورہ میں داخل ہوئے اور وہاں دس سال قیام فرمایا۔

آپ ﷺ پیر کے روز، ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو، چاشت کے وقت، فروری کے مہینے میں، وفات پا گئے۔ اس وقت آپ ﷺ کی عمر تریسٹھ سال تھی۔

آپ ﷺ کو بدھ کی رات اپنی زوجۂ محترمہ، ہماری والدہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں دفن کیا گیا۔ آپ ﷺ کی بیماری کے بعد چودہ دن گزرنے پر آپ ﷺ کا وصال ہوا۔ ان میں سے بعض تاریخوں کے بارے میں اختلاف ہے، جسے ہم نے یہاں ذکر نہیں کیا۔

آپ ﷺ کے غزوات کی تعداد ستائیس تھی، جن میں سے نو میں باقاعدہ جنگ ہوئی 3۔ جہاں تک آپ ﷺ کے بھیجے ہوئے لشکروں اور سرایا کا تعلق ہے تو ان کی تعداد پچاس تھی۔

آپ ﷺ نے حج فرض ہونے سے پہلے دو مرتبہ حج کیا، اور فرضیتِ حج کے بعد ایک مرتبہ حج فرمایا، اور یہی حجۃ الوداع تھا۔ آپ ﷺ نے چار مرتبہ عمرہ ادا فرمایا، اور یہ تمام عمرے ذوالقعدہ میں تھے۔

ذِكْرُ مَبْعَثِهِ ﷺ وَشَيْءٌ مِنْ أَخْبَارِهِ إِلَى أَنْ تُوُفِّيَ

وَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ عَامًا بَعَثَهُ اللهُ بَشِيرًا وَنَذِيرًا، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ بِالرِّسَالَةِ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ، فَقَالَ لَهُ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ إِلَى قَوْلِهِ: عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ. وَهِيَ أَوَّلُ مَا نَزَلَ عَلَيْهِ، يَوْمَ الِاثْنَيْنِ الثَّامِنِ مِنْ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ، وَقِيلَ غَيْرُهُ. فَآمَنَ بِهِ مَنْ آمَنَ، وَكَفَرَ بِهِ مَنْ كَفَرَ.

ذِكْرُ مَنْ آمَنَ بِهِ ﷺ وَمَا جَرَى بَعْدَ ذَلِكَ

فَأَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِهِ مِنَ النِّسَاءِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَمِنَ الصِّبْيَانِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَمِنَ الرِّجَالِ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَمِنَ الْمَوَالِي [1] زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ.

وَحَصَرَهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَهْلُ مَكَّةَ فِي الشِّعْبِ [2] ثَلَاثَةَ أَعْوَامٍ أَوْ أَقَلَّ، فَخَرَجَ مِنْهُ هُوَ وَأَهْلُ بَيْتِهِ وَعُمْرُهُ تِسْعٌ وَأَرْبَعُونَ عَامًا.

وَفِي عَامِ خَمْسِينَ مِنْ عُمْرِهِ مَاتَ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ، وَمَاتَتْ زَوْجَتُهُ خَدِيجَةُ بَعْدَ عَمِّهِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ.

فَلَمَّا بَلَغَ أَحَدًا وَخَمْسِينَ عَامًا وَتِسْعَةَ أَشْهُرٍ، أُسْرِيَ بِهِ بَيْنَ زَمْزَمَ وَالْمَقَامِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَعُرِجَ بِهِ عَلَى الْبُرَاقِ إِلَى السَّمَاءِ، وَفُرِضَتِ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ.

وَلَمَّا بَلَغَ ثَلَاثَةً وَخَمْسِينَ عَامًا، هَاجَرَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي اتَّفَقَ فِيهَا أَهْلُ مَكَّةَ عَلَى قَتْلِهِ، فَعَصَمَهُ اللهُ مِنْهُمْ، وَرَفِيقُهُ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، فَاخْتَفَيَا فِي الْغَارِ ثَلَاثَ لَيَالٍ.

فَدَخَلَ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، فَأَقَامَ بِهَا عَشْرَ سِنِينَ.

وَتُوُفِّيَ ﷺ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، الثَّانِيَ عَشَرَ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ، فِي وَقْتِ الضُّحَى، فِي شَهْرِ فِبْرَايِرَ، وَعُمْرُهُ ثَلَاثَةٌ وَسِتُّونَ عَامًا.

وَدُفِنَ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ فِي بَيْتِ زَوْجَتِهِ أُمِّنَا عَائِشَةَ، وَفِيهِ تُوُفِّيَ بَعْدَ مَرَضِهِ أَرْبَعَةَ عَشَرَ يَوْمًا، وَفِي بَعْضِ هَذِهِ التَّوَارِيخِ خِلَافٌ لَمْ نَذْكُرْهُ.

وَكَانَتْ غَزَوَاتُهُ سَبْعًا وَعِشْرِينَ غَزْوَةً، وَقَعَ الْقِتَالُ فِي تِسْعٍ مِنْهَا [3].

وَأَمَّا بُعُوثُهُ وَالسَّرَايَا فَخَمْسُونَ.

وَحَجَّ قَبْلَ فَرْضِ الْحَجِّ مَرَّتَيْنِ، وَبَعْدَ الْفَرْضِ مَرَّةً، وَهِيَ حَجَّةُ الْوَدَاعِ.

وَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، كُلُّهَا فِي ذِي الْقَعْدَةِ.

1 حاشیہ — موالی

عربی اصطلاح: الْمَوَالِي
یہاں موالی سے مراد وہ افراد ہیں جو کسی خاندان یا قبیلے کے ساتھ ولاء کا تعلق رکھتے تھے، خصوصاً آزاد کردہ غلام یا ان سے متعلق افراد۔ اس مقام پر مصنف نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اسی طبقے میں شمار کیا ہے۔

2 حاشیہ — شعبِ بنی ہاشم
الشِّعْبُ: وَاحِدُ شِعَابِ مَكَّةَ، وَهِيَ الْوِهَادُ وَالطُّرُقَاتُ بَيْنَ الْجِبَالِ. وَالْمُرَادُ بِهِ هُنَا شِعْبُ بَنِي هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ. قَالَ ابْنُ سَيِّدِ النَّاسِ الْيَعْمَرِيُّ فِي عُيُونِ الْأَثَرِ (١/١٤٧): «ثُمَّ إِنَّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ، وَاتَّفَقَ رَأْيُهُمْ عَلَى قَتْلِ رَسُولِ اللهِ ﷺ...»

شِعب، مکہ کے شِعاب میں سے ایک شِعب ہے۔ شِعاب سے مراد پہاڑوں کے درمیان موجود نشیبی راستے اور گزرگاہیں ہیں۔ یہاں شِعبِ بنی ہاشم بن عبد مناف مراد ہے۔

ابن سید الناس الیعمری نے عیون الأثر (1/147) میں بیان کیا ہے کہ قریش کے کفار نے باہم مشورہ کرکے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ آپ ﷺ نے ہمارے بیٹوں اور عورتوں کو خراب کردیا ہے۔ انہوں نے آپ ﷺ کے خاندان والوں سے کہا کہ تم ہم سے دگنی دیت لے لو اور قریش کے علاوہ کوئی شخص آپ ﷺ کو قتل کردے، لیکن بنی ہاشم اور بنی مطلب نے یہ بات قبول کرنے سے انکار کردیا۔

چنانچہ قریش کے مشرکین نے ان سے مکمل قطع تعلق کرنے اور انہیں مکہ سے نکال کر شِعب میں محصور کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب وہ شِعب میں داخل ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں موجود مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ بنی ہاشم اور بنی مطلب کے مسلمان اور کافر (خاندانی حمیت کی وجہ سے) سب شِعب میں محصور ہو گئے۔ انہوں نے تین سال تک ظالمانہ تحریری معاہدے پر عمل کیا اور سخت آزمائش کا سامنا کیا۔

محاصرہ ختم ہونے کی سبیل اور معجزہ

آخر کار اللہ تعالیٰ نے اس ظلم کے خاتمے کے اسباب پیدا کیے۔ قریش کے بعض نرم دل افراد (ہشام بن عمرو، زہیر بن أمیہ، مطعم بن عدی، أبو البختری، زمعہ بن الأسود) نے دارالندوہ میں اس ظالمانہ معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔

معجزہ: جب مطعم بن عدی معاہدے کی دستاویز لینے کے لیے گئے تو دیکھا کہ اسے دیمک نے چاٹ کر صرف اللہ کا نام (بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ) باقی چھوڑ دیا تھا، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب کو پہلے ہی خبر دے دی تھی۔

خلاصہ:
محاصرہ: تقریباً 3 سال (7 نبوی سے 10 نبوی تک)
اختتام کا سبب: قریش کے نرم دل لوگوں کی مداخلت اور دیمک کا معجزہ
نتائج: محاصرہ ٹوٹ گیا، مگر اسی سال حضرت ابو طالب اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا وصال ہوا، جسے "عام الحزن" (غم کا سال) کہا گیا۔

3 حاشیہ — غزوات
قَاتَلَ مِنْهَا فِي تِسْعٍ: بَدْرٍ، وَأُحُدٍ، وَالْمُرَيْسِيعِ، وَالْخَنْدَقِ، وَقُرَيْظَةَ، وَخَيْبَرَ، وَالْفَتْحِ، وَحُنَيْنٍ، وَالطَّائِفِ. وَقَدْ قِيلَ: إِنَّهُ قَاتَلَ فِي بَنِي النَّضِيرِ، وَفِي غَزْوَةِ وَادِي الْقُرَى، وَفِي الْغَابَةِ. (الوفا بأحوال المصطفى لابن الجوزي ٢/٦٧٣)

ان میں سے نو غزوات میں باقاعدہ جنگ ہوئی: بدر، احد، مریسیع، خندق، بنو قریظہ، خیبر، فتحِ مکہ، حنین اور طائف۔

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے بنو نضیر، غزوۂ وادی القریٰ اور غزوۂ غابہ میں بھی قتال کیا تھا۔
حوالہ: الوفا بأحوال المصطفى، ابن الجوزی، 2/673۔

اوپر تک سکرول کریں۔