سیرتِ طیبہ ﷺ

مختصر السیرۃ النبویۃ

لابن سید الناس

رسولِ اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا ایک مختصر اور جامع رسالہ، جس میں سیرتِ طیبہ کے اہم اور بنیادی پہلوؤں کو اختصار اور جامعیت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

رسالے کا موضوع: سیرتِ نبوی ﷺ کے ان اہم پہلوؤں کا بیان جن کا جاننا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے۔
اصل کتاب عیون الأثر
مختصر کے مؤلف محمد بن سعید السوسی المرغتی المراکشی
اردو مترجم علامہ شان اسلم
اویسیہ پبلیشرز سیرتِ طیبہ ﷺ
مُقَدِّمَةُ الْمُحَقِّقِ

مقدمۂ محقق

رسالے کے محقق کی جانب سے کتاب، مؤلف اور طریقۂ تحقیق کا تعارف
آسان اردو میں مطالعہ

اللہ ربّ العالمین کے لیے حمد ہے، اور درود و سلام ہے سب سے بڑے رسول، ان کے پاکیزہ اہلِ بیت اور پسندیدہ صحابہ پر۔

قرآنِ مجید کے بعد نیک مجلسوں کو سب سے زیادہ آباد اور بابرکت کرنے والی چیز رسول اللہ ﷺ کے حالات و واقعات ہیں۔ ان میں آپ ﷺ کی ولادت، پرورش، بعثت، غزوات، اسمائے مبارکہ، اولاد، چچاؤں، ازواج، شمائل اور صفات کا بیان شامل ہے۔ انہی کو سیرتِ نبوی کہا جاتا ہے۔

ہمارے علمائے کرام نے سیرتِ نبویہ کو جمع کرنے کا خصوصی اہتمام کیا؛ چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کی سیرت کو مدوّن کیا اور اس موضوع پر بہت سا عمدہ اور پاکیزہ علمی سرمایہ قلم بند کیا۔

ان جلیل القدر شخصیات میں امام حافظ فتح الدین ابو الفتح محمد بن محمد بن سید الناس الیعمری الشافعی بھی ہیں، جن کا وصال سنہ 734 ہجری میں ہوا۔

انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو ایک کتاب میں مدوّن کیا، جس کا نام رکھا: «عیون الأثر فی فنون المغازی والشمائل والسیر» 1 جو عام طور پر «سیرتِ ابن سید الناس» کے نام سے معروف ہے۔ یہ سیرت کے مفید مباحث کو جامع انداز میں سمیٹنے والی ایک معتبر تصنیف ہے۔

اس کتاب کی اہمیت کے پیشِ نظر بعض علما نے اس پر حواشی اور تعلیقات لکھیں۔ برہان الدین ابراہیم بن محمد حلبیؒ (وفات 841ھ) نے اس پر ایک حاشیہ لکھا، جس کا نام رکھا: «نور النبراس علی سیرۃ ابن سید الناس» 2 اور یوسف بن عبدالہادی حنبلیؒ (وفات 909ھ) نے اس پر ایک تعلیق لکھی، جس کا نام رکھا: «الاقتباس لحل مشکل سیرۃ ابن سید الناس» 3

اس کتاب کو محمد بن یونس شافعیؒ نے منظوم کیا، جن کا انتقال 845ھ میں ہوا۔ 4

اسی طرح بعض حضرات نے اس کا اختصار بھی کیا، جیسے امام محمد بن سعید السوسی المرغتی المراکشیؒ (وفات 1089ھ)۔ انہوں نے اپنے اس مختصر میں صرف ان باتوں پر اکتفا کیا جن کا جاننا ایک مسلمان مکلف پر لازم ہے۔ یہی وہ رسالہ ہے جسے ہم پہلی مرتبہ ایک خطی نسخے کی بنیاد پر تحقیق و تصحیح کے ساتھ شائع کر رہے ہیں، جس کا تعارف آگے آئے گا۔

طریقۂ تحقیق

اس مخطوطے کی تحقیق کے لیے میں نے درج ذیل طریقۂ کار اختیار کیا:

۱۔ میں نے مخطوطے کو معروف رسمِ خط کے مطابق نقل کیا، مشکل اسماء اور دیگر الفاظ پر اعراب لگائے، اور جہاں ناسخ سے غلطی ہوئی تھی اسے درست کیا۔ اس مقصد کے لیے اس مختصر کے اصل ماخذ، یعنی ابن سید الناس کی سیرت «عیون الأثر»، جو متعدد مرتبہ شائع ہو چکی ہے، اور سیرتِ نبوی کی دیگر کتب سے بھی رجوع کیا۔

۲۔ میں نے بعض مقامات پر حاشیہ میں وضاحت کی ہے، مثلاً مشکل الفاظ کی شرح، احادیث کی تخریج یا ایسی باتوں کی وضاحت جن کی ضرورت محسوس ہوئی۔

۳۔ میں نے مصنف محمد بن سعید السوسی المراکشیؒ کا تعارف بھی پیش کیا۔

۴۔ میں نے رسالے کے آغاز میں ایک مختصر مقدمہ شامل کیا ہے جو اس کے موضوع کو واضح کرتا ہے۔

آخر میں، میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس عاجزانہ کاوش میں توفیق عطا فرمائی ہوگی، اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اس کام کو نافع بنائے۔ آمین۔ والحمد للہ رب العالمین۔

تحریر: الجزائر
محمد شایب الشریف

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى أَشْرَفِ الْمُرْسَلِينَ، وَعَلَى آلِهِ الطَّاهِرِينَ، وَأَصْحَابِهِ الْمَرْضِيِّينَ.

أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّهُ لَمْ تُعْمَرْ مَجَالِسُ الْخَيْرِ بَعْدَ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ بِأَحْسَنَ مِنْ أَخْبَارِ رَسُولِ اللهِ ﷺ، وَمِنْ جُمْلَتِهَا خَبَرُ مَوْلِدِهِ وَمَنْشَئِهِ وَمَبْعَثِهِ، وَذِكْرُ أَحْوَالِهِ فِي مَغَازِيهِ، وَمَعْرِفَةُ أَسْمَائِهِ وَأَسْمَاءِ وَلَدِهِ وَعُمُومَتِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَشَمَائِلِهِ وَصِفَاتِهِ، وَهُوَ مَا يُسَمَّى بِالسِّيرَةِ النَّبَوِيَّةِ.

وَقَدِ اعْتَنَى عُلَمَاؤُنَا بِجَمْعِ ذٰلِكَ، فَدَوَّنُوا سِيرَتَهُ، وَكَتَبُوا فِيهَا الشَّيْءَ الْكَثِيرَ الطَّيِّبَ.

وَكَانَ مِنْ جُمْلَةِ هَؤُلَاءِ الْأَعْلَامِ: الْإِمَامُ الْحَافِظُ فَتْحُ الدِّينِ أَبُو الْفَتْحِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَيِّدِ النَّاسِ الْيَعْمَرِيُّ الشَّافِعِيُّ، الْمُتَوَفَّى سَنَةَ ٧٣٤ هـ، الَّذِي دَوَّنَ سِيرَتَهُ فِي كِتَابٍ وَسَمَهُ بِـ «عُيُونِ الْأَثَرِ فِي فُنُونِ الْمَغَازِي وَالشَّمَائِلِ وَالسِّيَرِ»، وَالْمَعْرُوفِ بِسِيرَةِ ابْنِ سَيِّدِ النَّاسِ، وَهُوَ كِتَابٌ مُعْتَبَرٌ جَامِعٌ لِفَوَائِدِ السِّيَرِ. 1

وَلِأَهَمِّيَّةِ الْكِتَابِ اعْتَنَى بِهِ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ: فَكَتَبَ عَلَيْهِ حَاشِيَةً بُرْهَانَ الدِّينِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَلَبِيُّ، الْمُتَوَفَّى سَنَةَ ٨٤١ هـ، سَمَّاهَا: «نُورُ النُّبْرَاسِ عَلَى سِيرَةِ ابْنِ سَيِّدِ النَّاسِ» 2

وَلِيُوسُفَ بْنِ عَبْدِ الْهَادِي الْحَنْبَلِيِّ، الْمُتَوَفَّى سَنَةَ ٩٠٩ هـ، تَعْلِيقٌ عَلَيْهِ، سَمَّاهُ: «الاقْتِبَاسُ لِحَلِّ مُشْكِلِ سِيرَةِ ابْنِ سَيِّدِ النَّاسِ» 3

وَنَظَمَهُ مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الشَّافِعِيُّ، الْمُتَوَفَّى سَنَةَ ٨٤٥ هـ. 4

كَمَا اخْتَصَرَهُ بَعْضُهُمْ كَالْإِمَامِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ السُّوسِيِّ الْمَرْغَتِيِّ الْمَرَّاكُشِيِّ، الْمُتَوَفَّى سَنَةَ ١٠٨٩ هـ، مُقْتَصِرًا فِي مُخْتَصَرِهِ هٰذَا ـ كَمَا قَالَ ـ عَلَى مَا يَجِبُ عَلَى الْمُكَلَّفِ مَعْرِفَتُهُ مِنْ سِيرَتِهِ، وَهِيَ هٰذِهِ الرِّسَالَةُ الَّتِي نَنْشُرُهَا لِأَوَّلِ مَرَّةٍ، مُحَقَّقَةً عَلَى نُسْخَةٍ خَطِّيَّةٍ سَيَأْتِي وَصْفُهَا.

هَذَا، وَقَدِ اتَّبَعْتُ فِي تَحْقِيقِ هَذَا الْمَخْطُوطِ الْخُطُوَاتِ الْآتِيَةَ:

١- نَسَخْتُ الْمَخْطُوطَ بِالرَّسْمِ الْمُتَعَارَفِ، مَعَ تَشْكِيلِ الْمُشْكِلِ مِنَ الْأَسْمَاءِ وَغَيْرِهَا، وَتَصْوِيبِ مَا أَخْطَأَ فِيهِ النَّاسِخُ بِالرُّجُوعِ إِلَى أَصْلِ هٰذَا الْمُخْتَصَرِ، وَهُوَ سِيرَةُ ابْنِ سَيِّدِ النَّاسِ «عُيُونُ الْأَثَرِ» الْمَطْبُوعَةُ مِرَارًا، وَغَيْرِ ذٰلِكَ مِنْ كُتُبِ السِّيرَةِ النَّبَوِيَّةِ.

٢- عَلَّقْتُ عَلَى بَعْضِ الْمَوَاطِنِ مِنْ شَرْحِ غَرِيبٍ، أَوْ تَخْرِيجِ حَدِيثٍ، أَوْ تَوْضِيحِ مَا يَحْتَاجُ إِلَى تَوْضِيحٍ.

٣- تَرْجَمْتُ لِلْمُؤَلِّفِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ السُّوسِيِّ الْمَرَّاكُشِيِّ.

٤- مَهَّدْتُ لِلرِّسَالَةِ بِمُقَدِّمَةٍ خَفِيفَةٍ تُبَيِّنُ مَوْضُوعَهَا.

وَأَخِيرًا أَتَمَنَّى أَنِّي وُفِّقْتُ فِي هَذَا الْعَمَلِ الْمُتَوَاضِعِ، وَأَسْأَلُ اللهَ النَّفْعَ بِهِ. آمِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.

كَتَبَهُ بِالْجَزَائِرِ:
مُحَمَّدٌ شَايِبُ الشَّرِيفِ.

حاشیہ 1 — امام ابن سید الناس
هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ ابْنِ سَيِّدِ النَّاسِ الْيَعْمَرِيُّ الرُّبَعِيُّ، أَبُو الْفَتْحِ فَتْحُ الدِّينِ، أَحَدُ حُفَّاظِ الْحَدِيثِ مَعَ الْعِنَايَةِ بِالتَّارِيخِ وَالْأَدَبِ. أَصْلُهُ مِنْ إِشْبِيلِيَةَ، وَمَوْلِدُهُ وَوَفَاتُهُ بِالْقَاهِرَةِ.
وہ محمد بن محمد بن احمد ابن سید الناس الیعمری الربعی ہیں، جن کی کنیت ابو الفتح اور لقب فتح الدین ہے۔ وہ حدیث کے حفاظ میں شمار ہوتے تھے اور تاریخ و ادب سے بھی خاص شغف رکھتے تھے۔ ان کا اصل تعلق اشبیلیہ سے تھا، جبکہ پیدائش اور وفات دونوں قاہرہ میں ہوئی۔ تصانیف: عیون الأثر، بشرى اللبيب، النفح الشذي۔ ماخذ: الدرر الكامنة 4/208، الأعلام 7/34
حوالہ 2 — «نور النبراس»
«نُورُ النُّبْرَاسِ عَلَى سِيرَةِ ابْنِ سَيِّدِ النَّاسِ»
برہان الدین ابراہیم بن محمد الحلبی نے سیرتِ ابن سید الناس پر یہ حاشیہ لکھا تھا۔ مراجع: کشف الظنون 2/183، تاریخ الأدب العربي لبروکلمان 6/273
حوالہ 3 — «الاقتباس»
«الاقْتِبَاسُ لِحَلِّ مُشْكِلِ سِيرَةِ ابْنِ سَيِّدِ النَّاسِ»
یوسف بن عبد الہادی الحنبلی نے سیرتِ ابن سید الناس پر یہ تعلیق لکھی تھی۔ مراجع: إيضاح المكنون 3/71، تاریخ الأدب العربي 6/273
حوالہ 4 — نظمِ سیرت
وَنَظَمَهُ مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الشَّافِعِيُّ، الْمُتَوَفَّى سَنَةَ ٨٤٥ هـ
محمد بن یونس شافعیؒ نے اس کتاب کو منظوم کیا، جن کا انتقال 845ھ میں ہوا۔ مراجع: کشف الظنون 2/183، تاریخ الأدب العربي 6/274

اصل رسالہ — ابوابِ سیرت

سیرتِ طیبہ ﷺ کے منتخب ابواب کا مطالعہ

اوپر تک سکرول کریں۔