اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو نہایت مہربان، بے حد رحم فرمانے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے سردار و مولا حضرت محمد ﷺ پر، آپ کی آل اور صحابۂ کرام پر درود بھیجے اور بہت زیادہ سلام نازل فرمائے۔
اس مختصر تحریر کا لکھنے والا، اللہ تعالیٰ کا بندہ محمد بن سعید بن محمد المرغتی السوسی ، اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمائے اور اس سے درگزر فرمائے، آمین، عرض کرتا ہے:
میں نے امام یعمری رحمہ اللہ ورضی عنہ کی تحریر سے ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کے ان امور کو مختصر کیا ہے جن کا جاننا ہر مکلف کے لیے ضروری ہے، جیسا کہ امام ابن عربی اور دیگر اہلِ علم رحمہم اللہ نے اس کی صراحت فرمائی ہے۔
میں نے یہ اختصار اس شخص کی درخواست پر کیا جس نے مجھ سے اس کا مطالبہ کیا تھا۔
چنانچہ میں نے سب سے پہلے آپ ﷺ کے شریف نسبِ مبارک سے آغاز کیا، اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا:
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ، وَصَلَّى اللهُ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ، وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا.
يَقُولُ كَاتِبُ هٰذِهِ الْجُمْلَةِ: عُبَيْدُ اللهِ تَعَالَى مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَرْغَتِيُّ السُّوسِيُّ، سَامَحَهُ اللهُ وَعَفَا عَنْهُ، آمِينَ: قَدِ اخْتَصَرْتُ مِنْ كَلَامِ الْإِمَامِ الْيَعْمَرِيِّ رَحِمَهُ اللهُ وَرَضِيَ عَنْهُ، مَا يَجِبُ عَلَى الْمُكَلَّفِ مَعْرِفَتُهُ مِنْ سِيرَةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ ﷺ، كَمَا نَصَّ عَلَيْهِ الْعُلَمَاءُ كَالْإِمَامِ ابْنِ الْعَرَبِيِّ وَغَيْرِهِمْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، لِمَنْ طَلَبَ مِنِّي ذٰلِكَ، فَبَدَأْتُ بِنَسَبِهِ الشَّرِيفِ، فَقُلْتُ مُسْتَعِينًا بِاللهِ:
