CHAPTER 02

نبی کریم ﷺ کا نسبِ مبارک

رسولِ اکرم ﷺ کے نسبِ مبارک اور والدۂ ماجدہ کے نسب کا بیان

آپ ﷺ کا نام محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہے۔ عبدالمطلب کا اصل نام شیبہ تھا۔ وہ ہاشم کے بیٹے تھے، جن کا اصل نام عمرو تھا۔ ہاشم، عبد مناف کے بیٹے تھے، جن کا اصل نام مغیرہ تھا۔ عبد مناف، قصی کے بیٹے تھے، جن کا اصل نام زید تھا۔ قصی، کلاب کے بیٹے تھے، جن کا اصل نام حکیم تھا۔

پھر سلسلۂ نسب یہ ہے: مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان۔

نسبِ مبارک کی متفق علیہ حد

یہ آپ ﷺ کے نسبِ مبارک کا وہ حصہ ہے جس پر اہلِ علم کا اتفاق ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا: "مجھے عدنان سے آگے نہ لے جاؤ۔" [1]

والدۂ ماجدہ کا نسب

آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ آمنہ بنت وہب تھیں۔ ان کا نسب وہب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ تک پہنچتا ہے، جن کے نام اوپر گزر چکے ہیں۔

هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ (اسْمُهُ شَيْبَةُ) بْنِ هَاشِمٍ (اسْمُهُ عَمْرٌو) بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ (اسْمُهُ الْمُغِيرَةُ) بْنِ قُصَيٍّ (اسْمُهُ زَيْدٌ) بْنِ كِلَابٍ (اسْمُهُ حَكِيمٌ) بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ بْنِ نِزَارَ بْنِ مَعَدٍّ بْنِ عَدْنَانَ.

هَذَا هُوَ الْمُتَّفَقُ عَلَيْهِ مِنْ نَسَبِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، وَلِذَلِكَ قَالَ: «لَا تُرْفَعُونِي فَوْقَ عَدْنَانَ» [1].

وَأُمُّهُ آمِنَةُ بِنْتُ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ بْنِ كِلَابِ بْنِ مُرَّةَ الْمَذْكُورِينَ.

[1] حاشیہ
مجھے یہ روایت انہی الفاظ کے ساتھ نہیں ملی۔ طبقات ابن سعد (1/34) میں اسی مفہوم کی ایک روایت موجود ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں:
"نبی کریم ﷺ جب اپنا نسب بیان فرماتے تو معد بن عدنان بن ادد سے آگے نہیں بڑھتے، پھر رک جاتے اور فرماتے: نسب بیان کرنے والے جھوٹ کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اور ان دونوں کے درمیان بہت سی نسلیں گزری ہیں۔﴾"
اس روایت کی سند میں ہشام بن محمد بن السائب الکلبی ہے، جسے محدثین نے متروک قرار دیا ہے۔
اوپر تک سکرول کریں۔